9 اکتوبر 2026 - 00:02
انصاراللہ نے ایک رات میں جنگ کے توازن بدل دیا؛ مگر کیسے؟ - 3

نیویارک ٹائمز بیان کرتا ہے کہ انصاراللہ نے اپنی مضبوط فوجی طاقت اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا اور یمن میں ریاض کی اجرتی ملیشیاؤں کے باہمی اختلافات اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر، ایک ہی رات میں مغربی ساحل اور اسٹراٹیجک آبنائے باب المندب کے بڑے حصوں کو آزاد کرا لیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں یمن کے مغربی ساحل اور آبنائے باب المندب کی یمنی مجاہدین کے ہاتھوں تیزرفتاری سے آزادی کی تصویر کشی کی ہے؛ ایسی تبدیلی جو در حقیقت تبدیلیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ثابت ہوئی۔

تیسری قسط:

نتیجہ اس تیزرفتار شکست و ریخت کی صورت میں برآمد ہؤا؛ یمنی افواج نے صرف ایک رات میں اپنے ملک کے تقریباً 1800 مربع میل علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ ان علاقوں میں ریاض سے وابستہ [نام نہاد] حکومت کی ملیشیاؤں کے زیرِ کنٹرول بحیرہ احمر کا پورا ساحلی علاقہ ـ نیز آبنائے باب المندب کے اندر واقع جزیرہ "میون" بھی ـ شامل تھا۔

طارق صالح کی ملیشیا کے بیان کے مطابق، اس ملیشیا کے کم از کم 500 افراد ہلاک اور 1500 سے زائد زخمی ہوئے۔

طارق صالح کی ملیشیا کے ایک جنگجو نے کہا کہ پسپائی کا حکم ملنے کے بعد اس نے اپنے فوجی نشانات چھپا لئے اور اپنا ہتھیار ایک درے میں پھینک دیا۔ پھر وہ اپنے خاندان کے پاس واپس گیا اور انہیں علاقہ چھوڑنے کے لئے صرف 15 منٹ کا وقت دیا۔

سعودیہ سے وابستہ ملیشیا سے وابستہ اس جنگجو نے کہا کہ اس نے ریاض سے وابستہ [نام نہاد] حکومت کی افواج کو دیکھا جو اپنی بکتر بند گاڑیاں محاذ سے نکال رہی تھیں۔

اس نے کہا: "سعودیہ سے وابستہ حکومت کے جنگجو گولی کی سی تیزی سے، ہمارے پاس سے گذر رہے تھے!"

طارق صالح ریاض فرار ہوگیا

یمنی افواج کے ہاتھوں المخا کی آزادی کے بعد، طارق صالح اور اس کے کئی ساتھی ریاض فرار ہو گئے۔ سعودی عرب سے وابستہ [نام نہاد] حکومت کے ایک اہلکار اور دو افسران نے اس کی تصدیق کی۔

صالح کے ایک قریبی افسر نے کہا کہ اس مرحلے میں ترجیح افواج کی تعمیر نو اور تشکیل نو اور زخمیوں کی دیکھ بھال تھی اور بعد میں افواج کے بکھرنے کی وجوہات کی تحقیق کا منصوبہ تھا۔

لیکن فوجی شکست انصاراللہ کے مخالف کیمپ کے اندرونی خلا کو ختم نہ کر سکی۔ پسپائی کے بعد بھی، طارق صالح کی کچھ دستوں کو [متحدہ عرب امارات کے اجرتی] دوسرے گروہوں کی بظاہر اتحادی ملیشیاؤں، کی طرف سے عدن میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

سعودیہ سے وابستہ ملیشیاؤں کے ایک جنگجو ـ جس نے عدن کے باہر ایک عارضی کیمپ سے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی دن سے کھانے کو کچھ نہیں ملا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha